گندم کی سرکاری خریداری اور چھوٹے کسانوں کے مسا ئل  –  حصہ دوئم

گندم کی سرکاری خریداری اور چھوٹے کسانوں کے مسا ئل  –  حصہ دوئم

تحریرـ طارق محمود ایڈوکیٹ- صدر سویرا فاُٰونڈیشن- چشتیاں ضلع  بہاولنگر  پنجاب

پہلے حصّے میں میں نے  چھو ٹے کسانوں کی نئ  حکومت  سے  امیدیں، کسانوں کے  بڑھتے  اخراجات، بار دانہ کا حصول  اور خسرہ گرداوری، اور 2019 کی گندم  خریداری پالیسی میں فرق کے بارے میں تفصیل سے لکھا تھا۔ جو کے     20 اپریل 2019 کو شائع ہوا – یہ دوسرا حصّہ گندم خریداری وقت پر شروع نہ  ہونے کا نقصان، با ردانہ کے حصول  میں مشکلات، کرپشن کے مسائل ، خریداری مراکز میں مسائل، ادایٔگی  کی مشکلات  اور ان تمام  مسائل   حل کرنے کیلیے تجاویز پر مشتمل ہے۔  

  گندم خریداری وقت پر شروع نہ  ہونے کا نقصان

  چھوٹے کسانوں کے لیئےایک تکلیف دہ پہلو یہ بھی  ہےکہ ہر سال حکومت پندرہ اپریل سے گندم کی سرکاری خریداری کرنے کا اعلان کرتی ہےاوراس کے لیے انتظامات اپریل کے اغاز میں شروع کرتی ہے۔  لیکن باردانہ کی تقسیم میں تاخیر کرتے کرتے خریداری کا عملی آغاز 29،28اپریل سے ہوتاہےاور گندم کی قیمت کی ادائیگی کا عمل 2 مئی سے شروع ہوتا ہے۔  جبکہ دوسری طرف اپریل کے پہلے  ہفتے سے پنجاب میں گندم کی کٹائی کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ چھوٹے کسانوں نے چونکہ اپنی فصل کی کٹائی اور گہائی خود کر نا ہوتی ہے۔ اس لیئے وہ جلد سے جلد اس عمل کو مکمل کر لیتے ہیں۔  حکومتی مراکز پر ابھی تک خریداری کا عمل شروع نہیں ہوا ہوتا اس لیے کسان مجبو ر ہوتا ہےکہ وہ اپنی گندم کی پیداوار کھیتوں سے سیدھا منڈیوں میں لے جائےیا کھیتوں میں ہی بیوپاریوں کوکم قیمت پر فروخت کردے۔

با ردانہ کے حصول  میں مشکلات  

چھوٹے کسانوں کے لئے مزید مشکلات باردانہ کے حصول کے طریقہ کار اورخرید اری مراکز پرگندم کی فراہمی کے بعد اس کی قیمت وصول کرنےکے طریقہ کار نے پیدا کردی ہیں۔ باردانہ کے حصول کے لئے سب سے پہلے تو کسانوں کو کسی بنک سے بوریوں کی قیمت کے مطابق اس مالیت کا بنک ڈرافٹ /پے آرڈر بنوانا پڑتا ہے جس کے ساتھ اپنی خسرہ گرداوری کی نقل اور شناختی کارڈ کی کاپی کے ساتھ درخواست خریداری مرکز پر جمع کروانا پڑتی ہے ۔

کرپشن کے مسا ئل   

 خسرہ گرداوری کے لئے پٹواریوں کی جیب گرم کرنا پڑتی ہے۔ بنک ڈرافٹ بنوانا ایک الگ دشوار مرحلہ ہے جسے طے کرنے میں کسان کے 2سے 3 دن لگ جاتے ہیں۔ فائل جمع ہونے کے بعد اسے لمبی لمبی لائنوں میں لگ کر باردانہ حاصل کرنا پڑتا ہے اور خریداری مراکز کے عملہ کی” خدمت” کئے بغیر یہ مرحلہ طے کرنے والے کسانوں کا شمار خوش قسمت لوگوں میں ہوتا ہے۔

خریداری مراکز میں مسائل 

خداخدا کرکے یہ سارے مراحل طے ہو بھی جائیں اور کسان گندم لے کر خریداری مرکز پہنچ جائے تو ایک بار پھر لمبی لمبی لائنوں میں لگنا پڑتا ہے۔ چھوٹے کسانوں کے پاس اپنا ٹریکٹر ٹرالی تو ہوتا نہیں ہے وہ عام طور پر کرائے پر حاصل کرکے اپنی گندم لے جاتے ہیں۔ وہاں جب 2 ،2 دن تک کھڑا ہونا پڑتا ہے تو اسے ٹریکٹر ٹرالی والے کو فی دن کے حساب سے کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔ یہ مرحلہ بھی طے ہو جائے اور ٹرالی خریداری مرکز کے اندر پہنچ جائے تو پھر خریداری مرکز کے عملہ کی مرضی ہے کہ وہ اس کسان کو یہ کہہ کر کہ اس کی گندم کی کوالٹی ٹھیک نہیں ہے اس لئے اسےکاٹ لگے گی (یعنی کٹوتی ھو گی )  اور اس کاٹ کے نام پر وہ جتنی بوریاں چاہے رکھ لے۔   گندم کی یہ اضافی بوریاں خریداری مراکز کے عملہ کی ذاتی جیب میں جاتی ہے  اورکسان بےچارہ مجبورا”  یہ سب کچھ برداشت کرتا رہتا ہے۔

ادایٔگی  کی مشکلات  

جب کسان کو اس  کی گندم کی قیمت ادا کی جاتی ہے تو وہ بھی بذریعہ بنک ادا کی جاتی ہے۔ حکومتی پابندیوں نے بینکوں میں اکاؤنٹ کھولنا  انتہائی مشکل کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے بہت سارے کسان ان تمام مراحل کو طے کرنا ناممکن سمجھتے ہوئے خریداری مراکز پر گندم فروخت کرنے کی بجائے کھلی منڈی میں یا بیوپاریوں کو فروخت کر دینا مناسب سمجھتے ہیں اور کسانوں کی اس مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خریداری مراکز کے عملہ کے منظور نظر بیوپاری کسانوں سےبہت کم نرخوں پر گندم خریدلیتے ہیں۔ اور اس طرح سے چھوٹے کسانوں کا استحصال کرتے ہیں۔

 مسا ئل   حل کرنے کیلیے تجاویز

گندم کی خریداری کا آغاز یکم اپریل سے شروع کیا جائے اور گندم کے باردانہ کی فراہمی کا عمل مارچ کےمہینہ میں مکمل کرلیا جائے تاکہ جیسے ہی گندم کی خریداری کا آغاز یکم اپریل سے شروع کیا جائے اور گندم کے باردانہ کی فراہمی کا عمل مارچ کےمہینہ میں مکمل کرلیا جائے تاکہ جب کسان اپنی گندم کاٹے سیدھا کھیت سے خریداری مرکز تک پہنچادے

۔پانچ ایکڑ تک کے گندم کے کاشتکار سے باردانہ کی پابندی ختم کی جائے اور وہ اپنی کھلی گندم خریداری مرکز تک پہنچا سکے جہاں پر مرکز خریداری  کا عملہ خود اس کی گندم کی باردانہ میں بھرائی کروالے۔

بوریوں کی تعداد مقرر کرکے باردانہ کی تقسیم کو اوپن کردیا جائے۔ خاص طور پر غلہ منڈیوں کے آڑھتیوں کو باردانہ فراہم کیاجائے تاکہ غلہ منڈیوں میں مسابقتی عمل کی وجہ سے کھلی منڈیوں میں گندم کی قیمت بہتر ہو سکے ۔ جب سے آڑھتیوں کو اس عمل سے باہر کیا گیا ہے تب سے کسانوں کا استحصال شروع ہوگیا ہے ۔ بیوپاری دو سو سے ڈھائی سو روپے من تک منافع کما رہے ہیں جبکہ آڑھتی 5 سے 10 روپے بوری کے منافع پر بھی گندم خریداری مراکز پر فروخت کرتے رہےہیں۔ جس کی وجہ سے کسانوں کو کھلی منڈی میں بھی حکومت کی امدادی قیمت سے 10 ،20 روپے من کم قیمت مل جاتی تھی۔ مگر وہ پہلے بیان کی گئی تمام تکالیف سے بچ جاتا تھا اور اس بات پر وہ بہت خوش تھا کیونکہ اس سے اس کا بہت سارا وقت اور پٹواری ،  بنک اور خریداری مراکز کے چکروں سے بچ جاتا تھا۔

کسانوں کو اس کی گندم کی قیمت ادائیگی کا کوئی ایسا طریقہ بنایا جائے جس سے اس کو بنک میں اپنا اکاؤنٹ کھولنے کے بغیر ہی  نقد ادائیگی ہوجائے۔

بنک کے ذریعہ سے پے منٹ پر کسان جب بنک سے رقم نکلواتا ہے تو بنک اس پر نان فائلر ہونے کی وجہ سے 0.6 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کاٹ لیتا ہے جو کہ اس پر ایک اضافی بوجھ ہے۔ گندم کی ادائیگی پر ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی منسوخ کی جائے-

خریداری مراکز اور تحصیل وضلع کی سطح پر خریداری مراکز کی نگرانی کے لئے بنائی گئی کمیٹیوں کی تشکیل میں سیاسی عمل دخل ختم کیا جائے اور اس عمل کی نگرانی یونین کونسلوں اور کسانوں کے نمائندوں کو دی جائے۔

Read More
1 گندم کی سرکاری خریداری اور چھوٹے کسانوں کے مسا ئل ۔ حصہ

1 گندم کی سرکاری خریداری اور چھوٹے کسانوں کے مسا ئل ۔ حصہ

 تحریرـ طارق محمود ایڈوکیٹ- صدر سویرا فاُٰونڈیشن- چشتیاں ضلع  بہاولنگر  پنجاب

چھو ٹے کسانوں کی امیدیں

پاکستان میں پی ٹی آئی کی حکومت کے برسراقتدارآتے ہی عوام نے توقعات وابستہ کرلی تھیں کہ اب تبدیلی کی لہران  کے دروازوں پر بھی دستک دے گی –  چھوٹے  کسانوں کے دلوں میں بھی یہ امنگ جاگ اٹھی تھی کہ اب  خو شحالی  ان کے گھروں میں بھی ڈیرے ڈالے گی –  ان کسانوں کو بھی اپنے حالات میں تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔ مگر جیساکہ کسی شاعر نے کہا ہے کہ:؂

 خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیئے

ان میں جاکر مگر   رہا نہ کرو 

پاکستان با لخصوص پنجاب میں  گندم کے کاشتکار یہ توقع کررہےتھےکہ  اس سال  سرکاری خریداری کی پالیسی میں   گزشتہ حکومتوں کے  ادوار  کی   تکالیف کا ازالہ کیا جاۓ گا اور انہیں خصوصی مراعات فراہم کی جائیں گی – کسان گندم کی فصل آسانی کے ساتھ حکومتی خریداری مراکز تک پہنچا کر حکومت کی مقرر کردہ امدادی قیمت حاصل کر سکیں گے۔مگر  کسانوں کی یہ امیدبرنہیں آئی اوراس سال کی  گندم  خریداری پالیسی بھی سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں کا تسلسل ہی ہے۔

کسانوں کے  بڑھتے  اخراجات

کسانوں کے  بڑھتے  اخراجات میں گزشتہ  ایک سال کے دوران ڈالر کی اونچی   اڑان  کی وجہ سے زرعی مداخلات کی قیمتوں میں کئی گنااضافہ ہوچکاہے۔جس کی وجہ سے  فی ایکڑ پیداواری لاگت میں  کئی گنا اضافہ   ہوچکا  ہے – ان حالات میں کسانوں کا خیال تھاکہ حکومت  گندم کی امدادی قیمت میں مناسب اضافہ کرےگی مگر ایسانہ ہوسکا  – اس سال بھی گندم کی امدادی قیمت 1300روپےفی من ہے۔ خیال رہےکہ1300روپے امدادی قیمت آج سےکئی سال پہلے مقرر کی گئی تھی  – تب سے اب تک زرعی مداخلات کی قیمتوں میں 3سے4گنااضافہ ہوچکاہے۔ ایسے حالات میں  کسان اپنے پیداواری اخراجات ہی بمشکل پورےکرپاتاہے۔منافع تو اس کے لئے خواب و خیال  کی بات ہے۔

اب اگرحقائق کی طرف آئیں تو   1300 روپے فی من  امدادی قیمت حاصل کرنے والے خوش نصیب بھی   بااثر بڑے زمیندار،جاگیرداریا سیاسی طور پر بااثر لوگ ہوتے ہیں۔چھوٹے کسان اس سہولت سے عام طور پر محروم ہی رہتےہیں۔

بار دانہ کا حصول  اور خسرہ گرداوری

پاکستان میں چھوٹے کسانوں کی  بڑی تعداد یاتوزمین کےمالک نہیں ہیں یا صرف ایک دوایکڑ کےمالک ہیں  –  اپنی زمین کے ساتھ ساتھ وہ یا توچند ایکڑ زمین مستاجری(ٹھیکہ/لیز) پرلے کر کاشت کرتے ہیں یا بطورمزارع کسی دوسرے  زمیندار کی زمین کاشت کرتے ہیں۔ ایسے کاشتکاروں کالینڈ ریونیوریکارڈ میں کہیں اندارج نہیں ہوتا – ریونیوریکارڈ میں ایک رجسٹر ہوتا ہے جسے خسرہ گرداوری رجسٹرکہا جاتا ہے ۔خسرہ گرداوری رجسٹر اس بات کا ریکارڈ رکھتا ہےکہ کسی قطعہ زمین پر اس وقت قابض کون ہے؟یعنی ایک کھیت کا مالک اگر زید ہےتواس کھیت کی ملکیت توزید کی ہی ہوگی مگراگرزید نے کھیت کسی بکر کو ٹھیکے پردیاہواہےیابکرکومزارع رکھا ہواہےتوخسرہ گرداری میں بکر کا نام درج ہونا چاہیے۔مگر زمین کے مالکان بوجوہ  ایسا نہیں ہونے دیتے اورخسرہ گرداوری میں بھی اپنے نام کا اندراج ہی کرواتے ہیں۔

  گندم کی سرکاری خریداری پالیسی میں حکومت باردانہ ان کاشت کاروں کو فراہم کرتی ہے جن کا نام خسرہ گرداوری ریکارڈ میں شامل ہے۔اس پالیسی کی وجہ سے چھوٹے کسانوں، مزارعوں اور مستاجروں کی بہت  بڑی تعداد سرکاری امدادی قیمت پر اپنی گندم فروخت کرنے سے محروم رہ جاتی ہے اوریہ باردانہ بڑے زمیندار اپنے نام پر حاصل کر کے یا تو خودان چھوٹے کسانوں سے اونے پونے داموں گندم خرید کر حکومتی خریداری مراکز پر فروخت کر دیتے ہیں یا یہ باردانہ اپنے نام پر حاصل کر کے بیوپاریوں کو فروخت کر دیتے ہیں۔ اور یہ بیوپاری  اپنی مرضی کے نرخوں پر انہی چھوٹے کسانوں سے گندم خریدکرمنافع کماتے ہیں۔

 

 اس سال  گندم خریداری کی پالیسی میں کچھ ایسا نہیں ہےجوکہ پچھلے سالوں کی پالیسیوں سے مختلف ہو سوائے اس کے کہ اس بار کسانوں کو 8بوری فی ایکڑ کی بجائے 9بوری فی ایکڑ باردانہ جاری کیاجائےگااور کسانوں کو خریداری مراکز پر گندم پہنچانے کے کرایہ کی مد میں صرف چندروپے فی بوری اضافہ کر دیا گیا ہےاور اس بار کسان کو 9 روپے فی بوری کرایہ کی مد میں ادا کیا  جائے گا۔  تا ہم   یہ  پابندی بھی ہے کہ کسی بھی کسان کو   10 ایکڑسے زیادہ گندم کے لیئے باردانہ فراہم نہیں کیاجائےگا – اس سال بروقت بارشیں ہونے کی وجہ سے  امید کی جاتی ہےکہ فی ایکڑپیداوار 40من فی ایکڑ  تک  کی امید تھی – حالیہ بارشوں سے گندم کا بہت نقصان ہوا ہے جس پہ میں الگ بلاگ لکھوں گا-  بہرحال  40من فی ایکڑکے حساب سے  9بوری فی ایکڑ  باردانہ فراہم کرنے کا مطلب ہے کہ کسان فی ایکڑ صرف ساڑھے بائیس من گندم حکومت کی امدادی قیمت پر فروخت کر سکے گااور باقی 

ماندہ گندم اسے کھلی مارکیٹ میں کم قیمت یعنی نقصان پر فروخت کرناہوگی ۔

Pictures credit. Archie Binamaria, Ms Fatima  Tariq, Tariq Mehmood. Picture editing: Ms Diya.

For comments please write to crvoices@gmail.com

Read More
گندم کی سرکاری خریداری اور چھوٹے کسانوں کےمسائل- حصہ دوم

گندم کی سرکاری خریداری اور چھوٹے کسانوں کےمسائل- حصہ دوم

تحریرـ طارق محمود  کسان –  چشتیاں ضلع  بہاولنگر  پنجاب

 گذشتہ  ہفتے  کے  بلاگ  میں آپ نے پڑھا کہ گندم کی فروخت میں چھوٹے  کسان  کو  باردانہ  (گندم  پیک کرنے کی بوری) کتنی مشکلات

کے بعد  حاصل ہوتا ہے۔ آج میں اس  کے بعد کی  مشکلات کا ذکر کرتا ہوں۔

جو باہمّت کسان  بار دانہ حا صل کرنے میں  کامیاب ہو جاتے ہیں ان کے لئے اپنی گندم کو خریداری مراکز تک پہنچانا ایک اور کٹھن مرحلہ ہے. چھوٹے کسانوں کے پاس اپنی ٹریکٹرٹرالی نہیں ہوتی ہیں۔ اس لئے وہ اپنی گندم کو  خریداری مراکز تک پہنچانے کے لئے کرایے پر کوئی گاڑی حاصل کرتے ہیں. اور اس مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوے ٹریکٹر ٹرالی والے دوگنا اور تین گنا کرایا وصول کرتے ہیں.

 جب الله الله کر کے کسی طرّح کسان اپنی گندم بوریوں میں بھر کر خریداری مراکز پہنچنے میں کامیاب ہو جاتاہے تو اب وہاں کا عملہ اس کے استحصال کے لئے ہتھیار آزمانا شروع کر دیتا ہے. سب سے پہلے تو اسکی گندم کی کوالٹی کو ناقص قراردے دیا جاتا ہے۔ پھر اسکی بوری کا وزن کم دکھایا جاتا ہے اور  اگر  وہ  ‘ نذرانہ ‘ دینے کو تیار ہو جاۓ تو یہ سارے اعتراضات ختم ہو جاتے ہیں۔ اور یہ  نذرانہ بھی نقد نہیں بلکہ  گندم کی بوریوں کی صورت  میں لیا  جاتا ہے.

اس کے بعد اس گندم کی قیمت  وصول کرنے کا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے. گندم کی فراہمی کے تقریبا”  ایک ہفتے بعد کسانوں کو انکی گندم کا ایک  واؤچر فراہم کیا جاتا ہے جس کو کسان اپنے بینک اکاؤنٹ میں جمع کروا کر اپنے اکاؤنٹ سے رقم حاصل کر سکتا ہے. آپ خود اندازہ  کر سکتے ہیں کے کتنے چھوٹے کسانوں  کے بینک اکاؤنٹ ہوں گے اور وہ اس سہولت سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں.

چنانچہ عام طور چھوٹے کسان گندم   سرکاری طور پر فروخت کرنے کے بجاۓ  خواری سے بچنے کے لئے اپنی گندم کھلی مارکیٹ میں بیچنے کو  مجبور ہو جاتے ہیں۔ جہاں پٹواری اونے پونے دام گندم خریدتے ہیں-  جسکی وجہ سے  کسان سرکاری امدادی قیمت حاصل نہیں  کر سکتے اور وہ   نقصا ن  پہ نقصان اٹھاتے رہتے ہیں۔

 افسوس  کہ یہ سلسلہ سال و سال سے یوں ہی چلا آ رہا ہے – نہ جانے اسے کون کس طرح اور کب حل کرے گا۔

طارق محمود، ایک چھوٹے کسان  ہو نے کے علاوہ ایڈووکیٹ بھی ہیں اور تنظیم سویرافاُٰونڈیشن  کے صدر بھی ہیں۔

  crvoices@gmail.com اپنے کمنٹس بھیجیں

Read More
گندم کی سرکاری خریداری اور چھوٹے کسانوں کےمسائل-   حصہ اول

گندم کی سرکاری خریداری اور چھوٹے کسانوں کےمسائل- حصہ اول

جنوبی پنجاب میں مارچ کے مہینےمیں موسم معمول سے زیادہ گرم ہونے، نہروں کی بندش، اور بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے گندم کی فصل معمول سے 15 دن پہلے تیارہو چکی ہے اور یکم اپریل سے گندم کی کٹائی بھی  شروع ہو چکی ہے اوراس کے ساتھ ہی کسانوں کے لیے فکرمندی کےنئےمرحلے شروع ہو رہے ہیں۔

پنجاب میں کسانوں کی اکثریت چھوٹے کسانوں کی ہے جن  کے پاس 3 سے 7 ایکڑ تک زمین ھے اور ان کی روزی روٹی کا مکمل انحصار کھیتی باڑی پر ھے۔ پنجاب میں  گندم کی فی ایکڑ پیداوار کا پچھلے پانچ سال کا جائزہ لیا جائے تو سالانہ فی ایکڑ پیداوار تقریبن تیس من کے قریب ہے جو کہ دوسرے ملکوں سی کافی کم ھے۔

اس سال پنجاب میں گندم کا زیر کاشت رقبہ تقریبا”   ایک کروڑ ستر لاکھ کے قریب ہے. اور  سرکاری طور پر گندم کی خرید کا ٹارگٹ تقریباٍٍ” چالیس لاکھ ٹن ہے  جو کے کل پیداوار کا تقریبا” بیس فیصد ہے جوکہ بہت ہی کم ہے-  کیونکہ باقی گندم  فروخت کرنے کے لیے کسان آڑھتیوں اور  بیوپاریوں کے رحم و کرم پر ہوں گے جو  اس سال بھی  چھوٹے کسانوں کا جی بھر کر استحصال کریں گے. ۔ کسان پہلے ہی بدحال اور قابل  رحم ہے اس کو اگر اس سال بھی گندم کی پوری قیمت نہ مل سکی تو وہ معاشی طور پر بالکل ہی تباہ ہو جائے گا۔

باردانہ کا حصول

سرکاری مراکز میں گندم فروخت کرنے کے لیے  پہلا مرحلہ باردانے  کا حصول ہو تا ہے- حکومت کی طرف سےگندم کے لیے  خالی بوریاں جاری کی جاتی ہیں جنھیں باردانہ کہا جاتا ہے۔اس بار 10 بوری فی ایکڑ کا اعلان ہوا ہے۔  جن میں کسان فی ایکڑ صرف پچیس  من گندم فروخت کر سکتا ہے. جبکے گندم کی فی ایکڑ پیداوار چالیس من کے قریب  ہے۔ لہٰذہ کسان بڑی مشکل سے اپنی پیداوار کا صرف پچاس فیصد حصہ سرکاری   نرخوں پر فروخت کر سکتا ہے۔  باقی پیداوار کے لئے اسے پھر کھلی مارکیٹ پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے.

باردانہ کے حصول کا عمل بہت پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ باردانہ صرف انہی کسانوں کو فراہم کیا جاتا ہے جن کا نام پٹواری کے ریکارڈ (خسراگرداوری )  میں موجود ہوتا ہے. اب جو کسان اپنی زمین کے خود مالک ہیں اور تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھتے ہیں وہ توپٹواری ریکارڈ (خسراگرداوری)  میں اپنا نام درج کرا لیتے ہیں۔  انھیں تو باردانہ ملنے کا امکان ہو جاتا ہے- مگر کسانوں کی ایک بڑی تعداد مستاجر یا مزارع ہے جو فصل تو کاشت کرتے ہیں مگر زمین  مالک فصل کی گرداوری مستاجر یا مزارع کے نام پر  درج نہیں ہونے دیتا. اسلئے وہ  اپنی پیداوار کے فروخت کی لئے باردانہ حاصل کرنے کے اہل نہیں رہتے-

جو کسان پٹواری ریکارڈ (خسرہ گرداوری)میں نام درج کروانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان کے لئے ابھی اور بہت سے امتحان باقی ہیں- ہر کسان کو اپنی کاشتہ زمین کے حساب سے باردانہ کی قیمت جمع کرانا ضروری ہوتا ہے. اور بوریوں کی تعداد کے مطابق محکمہ خوراک یا پاسکو کے نام بنک پے آرڈر  بنوا کے  جمع کروانا پڑتا ہے جسکے بعد اسکو باردانہ جاری کیا جاتا ہے. اس کام کے لیے  چھوٹے کسانوں کو دو دو دن بنکوں اور خریداری کے مراکز میں خوار ہونا پڑتا ہے۔   جو کہ سادہ لوح کسانوں کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے. حکومت کو چاہیے کہ باردانہ کے حصول کو  چھوٹے کسان کے حالات کے مطابق سادہ اور آسان  بناۓ

—  جاری ہے

اگلے   ہفتے  گندم خریداری کے دوسرے مرحلے کے بارے میں بلاگ پڑہیں

طارق محمود، ایک چھوٹے کسان  ہو نے کے علاوہ ایڈووکیٹ بھی ہیں اور تنظیم سویرافاُٰونڈیشن  کے صدر بھی ہیں۔

  crvoices@gmail.com اپنے کمنٹس بھیجیں

Feature image credit Tariq Mehmood.

Read More