تحریرـ طارق محمود ایڈوکیٹ- صدر سویرا فاُٰونڈیشن- چشتیاں ضلع  بہاولنگر  پنجاب

پہلے حصّے میں میں نے  چھو ٹے کسانوں کی نئ  حکومت  سے  امیدیں، کسانوں کے  بڑھتے  اخراجات، بار دانہ کا حصول  اور خسرہ گرداوری، اور 2019 کی گندم  خریداری پالیسی میں فرق کے بارے میں تفصیل سے لکھا تھا۔ جو کے     20 اپریل 2019 کو شائع ہوا – یہ دوسرا حصّہ گندم خریداری وقت پر شروع نہ  ہونے کا نقصان، با ردانہ کے حصول  میں مشکلات، کرپشن کے مسائل ، خریداری مراکز میں مسائل، ادایٔگی  کی مشکلات  اور ان تمام  مسائل   حل کرنے کیلیے تجاویز پر مشتمل ہے۔  

  گندم خریداری وقت پر شروع نہ  ہونے کا نقصان

  چھوٹے کسانوں کے لیئےایک تکلیف دہ پہلو یہ بھی  ہےکہ ہر سال حکومت پندرہ اپریل سے گندم کی سرکاری خریداری کرنے کا اعلان کرتی ہےاوراس کے لیے انتظامات اپریل کے اغاز میں شروع کرتی ہے۔  لیکن باردانہ کی تقسیم میں تاخیر کرتے کرتے خریداری کا عملی آغاز 29،28اپریل سے ہوتاہےاور گندم کی قیمت کی ادائیگی کا عمل 2 مئی سے شروع ہوتا ہے۔  جبکہ دوسری طرف اپریل کے پہلے  ہفتے سے پنجاب میں گندم کی کٹائی کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ چھوٹے کسانوں نے چونکہ اپنی فصل کی کٹائی اور گہائی خود کر نا ہوتی ہے۔ اس لیئے وہ جلد سے جلد اس عمل کو مکمل کر لیتے ہیں۔  حکومتی مراکز پر ابھی تک خریداری کا عمل شروع نہیں ہوا ہوتا اس لیے کسان مجبو ر ہوتا ہےکہ وہ اپنی گندم کی پیداوار کھیتوں سے سیدھا منڈیوں میں لے جائےیا کھیتوں میں ہی بیوپاریوں کوکم قیمت پر فروخت کردے۔

با ردانہ کے حصول  میں مشکلات  

چھوٹے کسانوں کے لئے مزید مشکلات باردانہ کے حصول کے طریقہ کار اورخرید اری مراکز پرگندم کی فراہمی کے بعد اس کی قیمت وصول کرنےکے طریقہ کار نے پیدا کردی ہیں۔ باردانہ کے حصول کے لئے سب سے پہلے تو کسانوں کو کسی بنک سے بوریوں کی قیمت کے مطابق اس مالیت کا بنک ڈرافٹ /پے آرڈر بنوانا پڑتا ہے جس کے ساتھ اپنی خسرہ گرداوری کی نقل اور شناختی کارڈ کی کاپی کے ساتھ درخواست خریداری مرکز پر جمع کروانا پڑتی ہے ۔

کرپشن کے مسا ئل   

 خسرہ گرداوری کے لئے پٹواریوں کی جیب گرم کرنا پڑتی ہے۔ بنک ڈرافٹ بنوانا ایک الگ دشوار مرحلہ ہے جسے طے کرنے میں کسان کے 2سے 3 دن لگ جاتے ہیں۔ فائل جمع ہونے کے بعد اسے لمبی لمبی لائنوں میں لگ کر باردانہ حاصل کرنا پڑتا ہے اور خریداری مراکز کے عملہ کی” خدمت” کئے بغیر یہ مرحلہ طے کرنے والے کسانوں کا شمار خوش قسمت لوگوں میں ہوتا ہے۔

خریداری مراکز میں مسائل 

خداخدا کرکے یہ سارے مراحل طے ہو بھی جائیں اور کسان گندم لے کر خریداری مرکز پہنچ جائے تو ایک بار پھر لمبی لمبی لائنوں میں لگنا پڑتا ہے۔ چھوٹے کسانوں کے پاس اپنا ٹریکٹر ٹرالی تو ہوتا نہیں ہے وہ عام طور پر کرائے پر حاصل کرکے اپنی گندم لے جاتے ہیں۔ وہاں جب 2 ،2 دن تک کھڑا ہونا پڑتا ہے تو اسے ٹریکٹر ٹرالی والے کو فی دن کے حساب سے کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔ یہ مرحلہ بھی طے ہو جائے اور ٹرالی خریداری مرکز کے اندر پہنچ جائے تو پھر خریداری مرکز کے عملہ کی مرضی ہے کہ وہ اس کسان کو یہ کہہ کر کہ اس کی گندم کی کوالٹی ٹھیک نہیں ہے اس لئے اسےکاٹ لگے گی (یعنی کٹوتی ھو گی )  اور اس کاٹ کے نام پر وہ جتنی بوریاں چاہے رکھ لے۔   گندم کی یہ اضافی بوریاں خریداری مراکز کے عملہ کی ذاتی جیب میں جاتی ہے  اورکسان بےچارہ مجبورا”  یہ سب کچھ برداشت کرتا رہتا ہے۔

ادایٔگی  کی مشکلات  

جب کسان کو اس  کی گندم کی قیمت ادا کی جاتی ہے تو وہ بھی بذریعہ بنک ادا کی جاتی ہے۔ حکومتی پابندیوں نے بینکوں میں اکاؤنٹ کھولنا  انتہائی مشکل کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے بہت سارے کسان ان تمام مراحل کو طے کرنا ناممکن سمجھتے ہوئے خریداری مراکز پر گندم فروخت کرنے کی بجائے کھلی منڈی میں یا بیوپاریوں کو فروخت کر دینا مناسب سمجھتے ہیں اور کسانوں کی اس مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خریداری مراکز کے عملہ کے منظور نظر بیوپاری کسانوں سےبہت کم نرخوں پر گندم خریدلیتے ہیں۔ اور اس طرح سے چھوٹے کسانوں کا استحصال کرتے ہیں۔

 مسا ئل   حل کرنے کیلیے تجاویز

گندم کی خریداری کا آغاز یکم اپریل سے شروع کیا جائے اور گندم کے باردانہ کی فراہمی کا عمل مارچ کےمہینہ میں مکمل کرلیا جائے تاکہ جیسے ہی گندم کی خریداری کا آغاز یکم اپریل سے شروع کیا جائے اور گندم کے باردانہ کی فراہمی کا عمل مارچ کےمہینہ میں مکمل کرلیا جائے تاکہ جب کسان اپنی گندم کاٹے سیدھا کھیت سے خریداری مرکز تک پہنچادے

۔پانچ ایکڑ تک کے گندم کے کاشتکار سے باردانہ کی پابندی ختم کی جائے اور وہ اپنی کھلی گندم خریداری مرکز تک پہنچا سکے جہاں پر مرکز خریداری  کا عملہ خود اس کی گندم کی باردانہ میں بھرائی کروالے۔

بوریوں کی تعداد مقرر کرکے باردانہ کی تقسیم کو اوپن کردیا جائے۔ خاص طور پر غلہ منڈیوں کے آڑھتیوں کو باردانہ فراہم کیاجائے تاکہ غلہ منڈیوں میں مسابقتی عمل کی وجہ سے کھلی منڈیوں میں گندم کی قیمت بہتر ہو سکے ۔ جب سے آڑھتیوں کو اس عمل سے باہر کیا گیا ہے تب سے کسانوں کا استحصال شروع ہوگیا ہے ۔ بیوپاری دو سو سے ڈھائی سو روپے من تک منافع کما رہے ہیں جبکہ آڑھتی 5 سے 10 روپے بوری کے منافع پر بھی گندم خریداری مراکز پر فروخت کرتے رہےہیں۔ جس کی وجہ سے کسانوں کو کھلی منڈی میں بھی حکومت کی امدادی قیمت سے 10 ،20 روپے من کم قیمت مل جاتی تھی۔ مگر وہ پہلے بیان کی گئی تمام تکالیف سے بچ جاتا تھا اور اس بات پر وہ بہت خوش تھا کیونکہ اس سے اس کا بہت سارا وقت اور پٹواری ،  بنک اور خریداری مراکز کے چکروں سے بچ جاتا تھا۔

کسانوں کو اس کی گندم کی قیمت ادائیگی کا کوئی ایسا طریقہ بنایا جائے جس سے اس کو بنک میں اپنا اکاؤنٹ کھولنے کے بغیر ہی  نقد ادائیگی ہوجائے۔

بنک کے ذریعہ سے پے منٹ پر کسان جب بنک سے رقم نکلواتا ہے تو بنک اس پر نان فائلر ہونے کی وجہ سے 0.6 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کاٹ لیتا ہے جو کہ اس پر ایک اضافی بوجھ ہے۔ گندم کی ادائیگی پر ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی منسوخ کی جائے-

خریداری مراکز اور تحصیل وضلع کی سطح پر خریداری مراکز کی نگرانی کے لئے بنائی گئی کمیٹیوں کی تشکیل میں سیاسی عمل دخل ختم کیا جائے اور اس عمل کی نگرانی یونین کونسلوں اور کسانوں کے نمائندوں کو دی جائے۔