تحریرـ طارق محمود ایڈوکیٹ- صدر سویرا فاُٰونڈیشن- چشتیاں ضلع  بہاولنگر  پنجاب

چھو ٹے کسانوں کی امیدیں

پاکستان میں پی ٹی آئی کی حکومت کے برسراقتدارآتے ہی عوام نے توقعات وابستہ کرلی تھیں کہ اب تبدیلی کی لہران  کے دروازوں پر بھی دستک دے گی –  چھوٹے  کسانوں کے دلوں میں بھی یہ امنگ جاگ اٹھی تھی کہ اب  خو شحالی  ان کے گھروں میں بھی ڈیرے ڈالے گی –  ان کسانوں کو بھی اپنے حالات میں تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔ مگر جیساکہ کسی شاعر نے کہا ہے کہ:؂

 خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیئے

ان میں جاکر مگر   رہا نہ کرو 

پاکستان با لخصوص پنجاب میں  گندم کے کاشتکار یہ توقع کررہےتھےکہ  اس سال  سرکاری خریداری کی پالیسی میں   گزشتہ حکومتوں کے  ادوار  کی   تکالیف کا ازالہ کیا جاۓ گا اور انہیں خصوصی مراعات فراہم کی جائیں گی – کسان گندم کی فصل آسانی کے ساتھ حکومتی خریداری مراکز تک پہنچا کر حکومت کی مقرر کردہ امدادی قیمت حاصل کر سکیں گے۔مگر  کسانوں کی یہ امیدبرنہیں آئی اوراس سال کی  گندم  خریداری پالیسی بھی سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں کا تسلسل ہی ہے۔

کسانوں کے  بڑھتے  اخراجات

کسانوں کے  بڑھتے  اخراجات میں گزشتہ  ایک سال کے دوران ڈالر کی اونچی   اڑان  کی وجہ سے زرعی مداخلات کی قیمتوں میں کئی گنااضافہ ہوچکاہے۔جس کی وجہ سے  فی ایکڑ پیداواری لاگت میں  کئی گنا اضافہ   ہوچکا  ہے – ان حالات میں کسانوں کا خیال تھاکہ حکومت  گندم کی امدادی قیمت میں مناسب اضافہ کرےگی مگر ایسانہ ہوسکا  – اس سال بھی گندم کی امدادی قیمت 1300روپےفی من ہے۔ خیال رہےکہ1300روپے امدادی قیمت آج سےکئی سال پہلے مقرر کی گئی تھی  – تب سے اب تک زرعی مداخلات کی قیمتوں میں 3سے4گنااضافہ ہوچکاہے۔ ایسے حالات میں  کسان اپنے پیداواری اخراجات ہی بمشکل پورےکرپاتاہے۔منافع تو اس کے لئے خواب و خیال  کی بات ہے۔

اب اگرحقائق کی طرف آئیں تو   1300 روپے فی من  امدادی قیمت حاصل کرنے والے خوش نصیب بھی   بااثر بڑے زمیندار،جاگیرداریا سیاسی طور پر بااثر لوگ ہوتے ہیں۔چھوٹے کسان اس سہولت سے عام طور پر محروم ہی رہتےہیں۔

بار دانہ کا حصول  اور خسرہ گرداوری

پاکستان میں چھوٹے کسانوں کی  بڑی تعداد یاتوزمین کےمالک نہیں ہیں یا صرف ایک دوایکڑ کےمالک ہیں  –  اپنی زمین کے ساتھ ساتھ وہ یا توچند ایکڑ زمین مستاجری(ٹھیکہ/لیز) پرلے کر کاشت کرتے ہیں یا بطورمزارع کسی دوسرے  زمیندار کی زمین کاشت کرتے ہیں۔ ایسے کاشتکاروں کالینڈ ریونیوریکارڈ میں کہیں اندارج نہیں ہوتا – ریونیوریکارڈ میں ایک رجسٹر ہوتا ہے جسے خسرہ گرداوری رجسٹرکہا جاتا ہے ۔خسرہ گرداوری رجسٹر اس بات کا ریکارڈ رکھتا ہےکہ کسی قطعہ زمین پر اس وقت قابض کون ہے؟یعنی ایک کھیت کا مالک اگر زید ہےتواس کھیت کی ملکیت توزید کی ہی ہوگی مگراگرزید نے کھیت کسی بکر کو ٹھیکے پردیاہواہےیابکرکومزارع رکھا ہواہےتوخسرہ گرداری میں بکر کا نام درج ہونا چاہیے۔مگر زمین کے مالکان بوجوہ  ایسا نہیں ہونے دیتے اورخسرہ گرداوری میں بھی اپنے نام کا اندراج ہی کرواتے ہیں۔

  گندم کی سرکاری خریداری پالیسی میں حکومت باردانہ ان کاشت کاروں کو فراہم کرتی ہے جن کا نام خسرہ گرداوری ریکارڈ میں شامل ہے۔اس پالیسی کی وجہ سے چھوٹے کسانوں، مزارعوں اور مستاجروں کی بہت  بڑی تعداد سرکاری امدادی قیمت پر اپنی گندم فروخت کرنے سے محروم رہ جاتی ہے اوریہ باردانہ بڑے زمیندار اپنے نام پر حاصل کر کے یا تو خودان چھوٹے کسانوں سے اونے پونے داموں گندم خرید کر حکومتی خریداری مراکز پر فروخت کر دیتے ہیں یا یہ باردانہ اپنے نام پر حاصل کر کے بیوپاریوں کو فروخت کر دیتے ہیں۔ اور یہ بیوپاری  اپنی مرضی کے نرخوں پر انہی چھوٹے کسانوں سے گندم خریدکرمنافع کماتے ہیں۔

 

 اس سال  گندم خریداری کی پالیسی میں کچھ ایسا نہیں ہےجوکہ پچھلے سالوں کی پالیسیوں سے مختلف ہو سوائے اس کے کہ اس بار کسانوں کو 8بوری فی ایکڑ کی بجائے 9بوری فی ایکڑ باردانہ جاری کیاجائےگااور کسانوں کو خریداری مراکز پر گندم پہنچانے کے کرایہ کی مد میں صرف چندروپے فی بوری اضافہ کر دیا گیا ہےاور اس بار کسان کو 9 روپے فی بوری کرایہ کی مد میں ادا کیا  جائے گا۔  تا ہم   یہ  پابندی بھی ہے کہ کسی بھی کسان کو   10 ایکڑسے زیادہ گندم کے لیئے باردانہ فراہم نہیں کیاجائےگا – اس سال بروقت بارشیں ہونے کی وجہ سے  امید کی جاتی ہےکہ فی ایکڑپیداوار 40من فی ایکڑ  تک  کی امید تھی – حالیہ بارشوں سے گندم کا بہت نقصان ہوا ہے جس پہ میں الگ بلاگ لکھوں گا-  بہرحال  40من فی ایکڑکے حساب سے  9بوری فی ایکڑ  باردانہ فراہم کرنے کا مطلب ہے کہ کسان فی ایکڑ صرف ساڑھے بائیس من گندم حکومت کی امدادی قیمت پر فروخت کر سکے گااور باقی 

ماندہ گندم اسے کھلی مارکیٹ میں کم قیمت یعنی نقصان پر فروخت کرناہوگی ۔

Pictures credit. Archie Binamaria, Ms Fatima  Tariq, Tariq Mehmood. Picture editing: Ms Diya.

For comments please write to crvoices@gmail.com